رپورٹ کے مطابق صیہونی وزیر نے اوسلو معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کو ختم کر دینا چاہیے کیونکہ یہ معاہدہ ان لوگوں نے کیا ہے جو غاصب ریاست کے لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صیہونی وزیر سیاحت کی اس ٹوئیٹ پر ردعمل دکھاتے ہوئے صیہونی شہریوں نے اسے سیکورٹی معاملات کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ یاھو صیہونی حکومت کی ناکامی کا ذمہ دار اب صیہونی فوج کے کمانڈروں کو قرار دے رہے ہیں جب کہ صیہونی حزب اختلاف کے یائر لاپید نے یاھو کی ٹوئیٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ایک حکومتی وزیر فوج کے سینئر کمانڈروں پر بغاوت کا الزام لگایا ہے، اب اسے ثبوت دینے ہوں گے یا پھر استعفی دینا ہوگا۔یاد رہے کہ مزاحمتی محاذ کی گزشتہ ہفتہ کی کاروائیوں سے غاصب ریاست کے اندر غیر یقینی اور خوف کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور صیہونی ایک دوسرے کے خلاف بیان دے رہےہیں اور داخلی انتشار ہر روز بڑھتا جا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242